کوفہ ایک بار پھر فتح ہوا. مصعب ابن زبیر تخت پر براجمان ہوا.اس کے سامنے مختار ثقفی کا سر کاٹ کر لایا گیا. اس نے فرمان جاری کیا کہ جشن مناؤ، دشمن اسلام مارا گیا.
دربار میں بیٹھا ایک بوڑھا مسکرا دیا. مصعب نے دریافت کیا:کیوں ہنستا ہے بڈھے؟
بوڑھے نے کہا : ماضی یاد آگیا.حال سامنے ہے. مستقبل آدھا دکھائی دے رہا ہے.
مصعب نے حکم دیا کہ تفصیل سے بتا.
بوڑھے نے بولنا شروع کیا : یہی دربار تھا.عبیداللہ ابن زیاد تخت پر بیٹھا تھا. حسین ابن علی کا سر لایا گیا.ابن زیاد نے کہا جشن مناؤ، دشمن اسلام مارا گیا. ہم نے جشن منایا.
ایک بار پھر یہی دربار تھا. جس مختار ثقفی کا سر تیرے تخت کے نیچے پڑا ہے یہ اسی تخت پہ بیٹھا تھا. ابن زیاد کا سر کاٹ کر لایا گیا.مختار ثقفی نے فرمان جاری کیا جشن مناؤ،دشمن اسلام مارا گیا.ہم نے جشن منایا.
آج وہی دربار ہے.تو تخت نشین ہے. مختار ثقفی کا سر لایا گیا ہے,تیرا حکم ہے جشن مناؤ، دشمن اسلام مارا گیا. ہم آج بھی جشن منائیں گے.
کل بھی یہی دربار ہوگا،یہ تو نہیں جانتا کہ تخت پر کون بیٹھا ہوگا.لیکن اتنا پتہ ہے کہ سر تیرا ہوگا اور فرمان جاری کیا جائے گا، جشن مناؤ، دشمن اسلام مارا گیا اور ہم جشن منائیں گے.
مجھے سیاست کی سمجھ تو نہیں ہے.نہ مجھے اتنا پتہ ہے کہ سیاسی ایوانوں میں کیا ہوتا ہے.عدلیہ کے فیصلے کس طرح غلط ہیں.سٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کر رہی ہے.مجھے کچھ نہیں پتہ.
مجھے اتنا یاد ہے۔ 1977 میں منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹا گیا ھم نے جشن منایا۔
1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی ھم نے جشن منایا ۔
1988 میں ضیا الحق کا جہاز تباہ ہوا. ہم نے جشن منایا.
1990 میں بے نظیر کی حکومت گری. ہم نے جشن منایا.
شاید 1993 اور 1997 میں بھی جشن منایا.یہ نہیں یاد کس حکومت کے گرنے پر.
1999 میں مشرف آیا.ہم نے جشن منایا.
2008 میں مشرف گیا.ہم نے جشن منایا.
2013 میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئ. ہم نے جشن منایا.
اب 2018 میں ایک بار پھر ہم جشن منا رہے ہیں.
اب اگلا جشن بھی ہوگا.پتہ نہیں کب اور کیوں.
تو کیا ہم بحیثیت قوم چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، صرف جشن مناتے رہیں گے اور ہماری نسلیں بھی ہماری طرح خوش رہیں گی جشن مناتے ہوئے..؟
