ختم نبوت کے اصل مجرم سامنے آگیے
انوشہ اور شفقت
میں اب تم دونوں کے پورے نام نہیں لکھ پاوں گا!
تم اس قابل نہیں رہے کہ میرے رحمن رب اور محمود نبی محترم ص کے مقدس نام تمہارے ساتھ جڑے رہیں!
تمہیں ججوں کی اس لاٹ کے سب سے معتبر جج نے انصاف کے سارے تقاضے پورے کرتے ہوئے تمہارے بارے میں راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کا کھلا حوالہ دیا ہے۔۔۔
تم وہ بد نصیب ہو جنہوں نے تھوڑی قیمت کے بدلے آقا ص کی حرمت پر نقب لگانے کی ناپاک جسارت کی اور جن کا دیا کھاتے ہو انہیں کی تھالی میں چپکے سے چھید کرنے لگے
تم کیوں بھول گئے کہ یہ محمد عربی ص کے دیوانوں کا ملک ہے؟
تم کیوں بھول گئے کہ تم جیسے چند ضمیر فروشوں کو چھوڑ کر ان کروڑ وں انسانوں کے سر جب تک ان کی گردنوں پر موجود ہیں یہاں کوئی کسی مائی کا لعل کواپنے آقاص کے نعلین مبارک کی گرد کی بھی توہین نہیں کرنے دے گا
تم کیسے ظالم اور بد نصیب ہو کہ تم نے پوری پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں پیش کچھ اور کیا اور فائنل کچھ اور کیا ؟وہ تو بھلا ہو صاحبزادہ طارق اللہ جیسے لوگوں کا جو اسمبلی صرف تنخواہ لینے نہیں جاتے تھے بلکہ کھلی آنکھوں اور سنتے کانوں کے ساتھ سب کچھ پر نظر رکھتے تھے
اسی لئے اس فیصلہ میں صاحبزادہ صاحب اور راجہ ظفر الحق کے کردارکی تعریف کی گئی
اے میرے اللہ!
یہ اور جو اس جرم میں شریک رہا اس سے ہم سب بری ہونے کا اعلان کرتے ہیں
اے اللہ جی یہ سیاہ بختی ان کا اور اب جو ان کے پشت پناہ بنیں ان کا مقدر بنا دے
اے اللہ جی
اے اللہ جی
جو قلم اور کی بورڈ
جو اخبار اور چینل
جو ادارے اور پارٹیاں
کسی مفاد اور عصبیت کی بنیاد پر حرمت رسول ص پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے حق میں زبان کھولیں
یا ان کو چھپانے بچانے یا پردہ ڈالنے کے لئے زبان بند رکھیں
ان سے اسی طرح نبٹ جیسے تو ابوجہلوں سے نبٹتا رہا
مالک جو لوگ عصبیت کی پٹی باندھ کر ان ظالموں کی حمایت میں اٹھیں تو انہیں ان کے گھٹنوں پر گرا دے نشان عبرت بنا دے۔۔۔
اے اللہ اے اللہ
جو تیرا دشمن ہے جو تیرے نبی ص کا دشمن ہے جو تیرے دین کا دشمن ہے
اے اللہ ان کے قدم اُکھاڑ دے
ان کی بنیادیں ہلا دے
ان کے اتحاد توڑ دے اور انہیں اپنی سخت گرفت میں لے لے
اے جبار و قہار رب ہمارے
اللھم زلزل اقدامھم و خرق بنیانہم وفرق جمعھم و خذھم اخذ عزیز مقتدر یا قہار یا جبار


