ھائے افسوس مہمان جارھا ھےایک بار پڑھیں آنکھوں سے آنسو آجایینگے
جون 15, 2018
0
بخشوا کر خطائیں میری اک بھلا وقت جا رہا ہے۔
ماہِ رمضاں جا رہا ہے مہماں رمضاں جا رہا ہے۔
معلوم تھا میری روح میں اتر جاۓ گا۔
مگر کہاں خیال تھا یوں گزر جاۓ گا۔
بخشوا کر خطائیں میری اک بھلا وقت جا رہا ہے۔
ماہِ رمضاں جا رہا ہے مہماں رمضاں جا رہا ہے
میرے قدموں تلے مصلہ تھی پابندی تراویح۔
جاری زباں پر کلمہ لیے ہاتھ میں تسبیح
بخشوا کر خطائیں میری اک بھلا وقت جا ہے۔
ماہِ رمضاں جا رہا ہے مہماں رمضاں جا رہا ہے
رحمتیں برکتیں ابھی سمٹی نہیں میری جھولی میں۔
ہجر میں دامن بھی رو رہا ہے آہوں میں سسکیوں میں۔
بخشوا کر خطائیں میری اک بھلا وقت جا رہا ہے۔
ماہِ رمضاں جا رہا ہے مہماں رمضاں جا رہا ہے۔
سحری کی بہاریں وہ افطار کی جلدی۔
درود کی لڑیاں ضد میں پرونا سب سے جلدی۔
بخشوا کر خطائیں میری اک بھلا وقت جا رہا ہے۔
ماہِ رمضاں جا رہا ہے مہماں رمضاں جا رہا ہے۔
رب کی رحمت برس رہی تھی بڑا لطف چھا رہا تھا۔
مسجد سے آرہا تھا کوئی مسجد کو جا رہا تھا۔
بخشوا کر خطائیں میری اک بھلا وقت جا رہا ہے۔
ماہِ رمضاں جا رہا ہے مہماں رمضاں جا رہا ہے۔
علی۔اب کا چاند عید کی خوشی تو لا رہا ہے۔
ہاۓ افسوس ماہِ رمضاں جا رہا ہے مہماں رمضاں جا رہا ہے۔
Tags
